مجھ میں جو کچھ اچھا ہے سب اس کا ہے

پاکستان کا صدر نمبر12

زمرہ: میری باتیں


پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین جناب آصف علی زرداری نے اپنا آخری پتا بھی کھیل لیا ۔ آج وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بارہ ویں صدر واضح اکثریت سے بنے ہیں ۔ ویسے واضح اکثریت سے توجنرل (ر) پرویز مشرف بھی صدر بنے تھے۔ لیکن ان کا کیا انجام ہوا ۔ یہ اب ماضی کا حصہ بن گیا ہے۔ دورانے کی  کوئی ضرورت نہیں۔ دیکھتے ہیں اب آصف علی زرداری کیسا صدر بن کے سامنے آتے ہیں۔ ویسے زرداری صاحب نے تو پہلے سے ہی یہ واضح کردیا ہے کہ میرے وعدوں اور معائدوں کو بلکل بھی  اہمیت نہ دوکیونکہ سیاسی وعدے اور معائدے کوئی قرآن و حدیث تو نہیں جس میں تبدیلی نہ کی جاسکے۔ اس لئے عوام خود کو کسی بھی خوش فہمی میں نہ رکھے۔ لیکن معصوم عوام پھر بھی یہ آس لگائے بیٹھی ہے کہ اب کچھ بہتری ہوگی۔ دیکھتے ہیں اس نیک مہینے میں 58 (2) بی  کی طاقت کے ساتھ صدر بننے والے آصف علی زرداری عوام کے ساتھ کیا نیکی کرتے ہیں۔

خواتین کا قتل اور بلوچ روایت

زمرہ: میری باتیں


تین چار دنوں سے بار بار خبروں میں بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں پانچ خواتین کو زندہ دفن کرنے کی بات ہورہی ہے۔ پھر بی بی سی اردو ریڈیو سے میں نے سردار اسرار زہری کا انٹرویو سنا ۔ جو بار بار یہ کہہ رہیں تھے کہ غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کرنا ہماری روایت ہے میں یہ سوچ سوچ کے پریشان ہورہا تھا سردار صاحب کیا کہہ رہے ہیں ؟ بلوچ تاریخ میں کسی عورت کو زندہ دفن کرنے کا رواج کب سے ہوا ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں۔ بلوچ معاشرے میں عورت کو سب سے زیادہ عزت دی جاتی ہے ۔  اگر کہیں لڑائی ہورہی ہو اور کوئی خواتین بیچ میں آجائے تو صلح کرلیتے ہیں۔ شاید ہی کسی دوسری قوم میں یہ روایت ہو کہ کوئی کسی کو قتل کرے پھر قاتل کی ماں یا بہن مقتول کے گھر معافی کے لئے جائے تو مقتول کے گھر والے قاتل کو معاف کردیتے ہیں۔

شاید سردار صاحب کو بلوچ تاریخ کا صیحح عمل نہیں ہے۔ اسی لئے سردار صاحب ایسا کہہ رہے ہیں۔ بلوچ معاشرے میں نہ تو کاروکاری کی رسم  ہے نہ ونی کی روایت ، اور نہ قرآن پاک سے شادی کا کوئی تصور، اور نہ ہی بلوچ قوم میں تعاون کے طور پر اپنی خواتین کو دینے کا کوئی رسم ہے۔

آخر میں ان بے چاری خواتین جنہیں زندہ دفن کیا گیا ہے یا قتل کرکے دفن کیا گیا ہے۔ کہ قاتلوں کو پکڑ کے سخت سزائیں دی جائیں۔

رمضان مبارک

زمرہ: میری باتیں

دنیا کے تمام مسلمانوں کو میری طرف سے رمضان کی خوشیاں مبارک ہو۔آمین ثم آمین

میں خوش ہوں

زمرہ: میری باتیں

آج میں بہت خوش ہوں ۔ کیوں خوش ہوں؟ یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ لیکن خوش ہوں تو خوش ہوں اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔ کبھی کبھی بغیر کسی وجہ کے میں پریشان ہوجاتا ہوں۔ آج بغیر کسی وجہ کے خوش ہوں۔

وضاحت

زمرہ: میری باتیں

حکومت کے تمام ارکان یہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ معزول ججز صاحبان بہت جلد بحال ہونگے، لیکن کب؟ اس پر بلکل خاموشی ہے اگر حکومت اس لطیفے کی طرح وضاحت کردے تو سمجھ جائیں گے۔ کب ججز بحال ہونگے۔

لطیفہ پڑھیئے

ایک صاحب ریلوے کا ٹائم ٹیبل پکڑے “انکوائری” کی کھڑکی پر پہنچے اور ایک ٹرین کا نام لے کر بولے۔

“اس ٹائم ٹیبل میں لکھا ہے کہ یہ ٹرین پانچ بارہ پر آتی ہے۔ اب تو ساڑھے پانچ ہوچکے ہیں لیکن ٹرین اب تک نہیں آئی۔”

“جناب۔۔۔۔پانچ بارہ کا مطلب ہے کہ یہ ٹرین پانچ سے بارہ بجے کے درمیان کسی بھی وقت آ سکتی ہے ابھی بارہ تو نہیں بجے نا۔۔۔۔؟”

کاؤنٹر کلرک نے اطمینان سے کہا۔

ججز بھی بحال ہونگے، ابھی تو پورے پانچ سال باقی ہیں۔  

Warid

زمرہ: جیوانی نامہ

آج جیوانی میں وارد((Warid موبائل فون کمپنی نے اپنی سروس کا آغاز کردیا ہے۔  

مستنصر حسین تارڈ اور رسول حمزہ توف کی ایک نظم

زمرہ: میری باتیں

مستنصر حسین تارڈ ہر ہفتے اخبار جہاں میں کارواں سرائے کے عنوان سے کالم لکھتے ہیں۔ میں نے شاید دس بارہ سال پہلے مستنصر حسین تارڈ کی کتاب “اندلس میں اجنبی” پڑھا تھا۔ مکمل طور پر تو نہیں پڑھا کیونکہ میرے کتاب ختم کرنے سے پہلے ہی کوئی اسے لے گیا۔ پھر دوبارہ اس کتاب کو پڑھنےکا موقع نہ مل سکا۔ خیر یہ میرا موضوع نہیں۔ میرا موضوع ہے رسول حمزہ توف کی وہ نظم جو کارواں سرائے میں کچھ عرصہ قبل مستنصر حسین تارڈ نے شائع کی تھی۔ مجھے یہ نظم بے حد پسند آئی۔ اس وقت تو میں اس نظم کو نوٹ نہ کرسکا۔ ویسے میری عادت ہے کہ جب بھی مجھے کوئی شعراچھا لگتا ہے تو میں اسے فوراً نوٹ کرلیتا ہوں۔ جانے کیوں میں رسول حمزہ توف کی اس نظم کو نوٹ نہ کرسکا۔ پچھلے تین ہفتوں سے اس نظم کے کچھ بول مجھے بار بار یاد آرہے تھے۔ میں اس نظم کی جستجو میں لگ گیا۔ پرانے اخبار جہاں دیکھ ڈالے ۔ لیکن میں کامیاب نہ ہو سکا۔ پھر یوں ہوا کہ کچھ دن پہلے ون اردو فورم کو دیکھ رہا تھا۔ ون اردو فورم میں کہیں اچھی کتابیں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے رکھی ہوئی ہیں۔ مستنصر حسین تارڈ کی بھی کچھ کتابیں پی ڈی ایف حالت میں رکھی ہوئی تھیں۔ میں نے ان میں سے سب سےآخری کتاب جس نام تھا یاک سرائے  ڈاؤن لوڈ کی، اور پڑھنے لگا ۔ محبت کے عنوان سے لکھے گئے تحریر میں رسول حمزہ توف اور اُس نظم کا ذکر تھا۔ اگر آپ کے پاس کچھ وقت ہوتو یاک سرائے کو یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجئے۔ اور محبت کے عنوان سے جو تحریر ہے اُسے پڑھئیے۔تو آپ کو رسول حمزہ توف کے بارے میں کچھ معلومات ملے گی۔ میں ون اردو والوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اب آخر میں وہ نظم پڑھیئے، جس کا عنوان ہے “عورت کے لئے” 

“عورت۔۔۔۔

اگر ایک ہزار مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہوں تو۔۔۔۔۔

یقیناً رسول حمزہ توف اُن میں سے ایک ہوگا۔۔۔۔۔”

 

“اگر ایک سو مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہوں تو۔۔۔۔۔

رسول حمزہ توف۔۔۔اُن میں۔۔۔۔ظاہر ہے ضرور شامل ہوگا۔۔۔۔”

 

“اور اگر دس مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہوں تو۔۔۔

رسول حمزہ توف اُن میں سے ایک ہوگا۔۔۔

اور اگر۔۔۔۔۔

صرف ایک مرد تمہاری محبت میں مبتلا ہو تو۔۔۔

تو وہ رسول حمزہ توف کے سوا اور کون ہو سکتا ہے۔۔۔”

 

اور اگر تم تنہا ہو۔۔۔۔اکیلی ہو

اور کوئی بھی تمہاری محبت میں مبتلا نہیں ہے۔۔۔

تو یقین کرلینا کہ۔۔۔

کہیں بلند پہاڑوں میں۔۔۔رسول حمزہ توف ۔۔۔۔ مرگیا ہے۔”

رب مغفرت کرے

زمرہ: میری باتیں

آج ایک شخص کے وفات پر مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے۔حالانکہ اکثر لوگوں کی طرح میں بھی اس کے کاموں سے خوش نہیں تھا۔ سب جانتے تھے کہ وہ جو کچھ وہ کررہا تھا وہ غلط تھا ۔ اس کی مخالفین کی تعداد بہت زیادہ تھی لیکن آج جب اس کا انتقال ہوگیا بہت سارے لوگوں کی طرح مجھے بھی بہت دکھ ہو رہا ہے۔ اس نے جو کچھ کیا، اچھا یا برا ، سب ختم ۔ میں بس اس کی مغفرت کے لیے رب سے دعا کرتا ہوں۔ رب اس کی مغفرت کرے اور اس کے اپنوں کو صبر جمیل دے۔ آمین ثم آمین

پرویز مشرف بھی تاریخ کا حصہ ہوگئے

زمرہ: میری باتیں

جب پرویز مشرف نے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا تو لوگوں نے جشن منانا شروع کردیا، ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلانے لگے۔سڑکوں پر رقص کرنے لگے۔ میں ٹی وی کے سامنے بیٹھا یہ تمام مناظر دیکھ رہا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ پاکستان میں جب کبھی کوئی رخصت ہوا ہے۔ تو لوگوں نے خوشیاں منائی ہیں۔ اکتوبر 99 میں جب نواز شریف کی حکومت ختم کی گئی تو لوگوں نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔ اب جب پرویز مشرف رخصت ہوئے تو پھر لوگوں نے مٹھائیاں بانٹی۔ کیا پاکستان میں ایسا کوئی صدر یا وزیر اعظم ہوگا جس سے جانے پر لوگ افسردہ  ہوں، اور یہ بولیں کہ بہت اچھے انسان ہیں اگر کچھ اور ٹھہر جاتے تو اچھا ہوتا ۔ میں اُن لوگوں کی بات کررہا ہوں جو اکثریت میں ہونے کے باوجود اقلیت میں ہیں۔ جو عام لوگ ہیں۔ میں اس چمچہ گیر گروپ کی بات نہیں کررہا ہوں جو ہوا کا رخ دیکھ کر بدل جاتے ہیں کیونکہ کچھ لوگ تو پرویز مشرف کے جانے پر بھی پریشان ہیں۔

پرویز مشرف اب تاریخ کا حصہ بن گئے اس کے بارے میں اب آنے والے وقت فیصلہ کرے گا۔ اس نے کیا کیا ہے؟۔ آج تو شاید ڈیل کرکے اپنے ہر گناہ سے بچ جائیں۔

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشہ ہے

جس ڈال پہ بیٹھے ہو،  ٹوٹ بھی سکتی ہے

بے شک رب تبارک تعالیٰ جسے چاہیے عزت دے جسے چاہیے ذلّت دے۔

مجھے غصہ دلایا جارہا ہے

زمرہ: پی ٹی سی ایل

اس وقت کوئی مجھ سے پوچھے کہ تمہیں کس پر شدّید غصہ آرہا ہے۔ تو میرا جواب ہوگا کہ “پی ٹی سی ایل” والوں پر۔ کیوں؟

چار راتوں سے نیٹ خراب ہے۔ کنکٹ کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو یہ ایرر آتا ہےکہ آپ کا یوزر نیم اور پاسورڈ غلط ہے۔ پچھلے ایک سال سے میں اسی یوزر نیم اور پاسورڈ سے انٹر نیٹ استعمال کررہا ہوں۔ میں نے سوچا کہ شاید یہ مسئلہ صرف پاس ہورہا ہے۔ اس لئے کل شام  میں نے اپنے ایک دوست سے پوچھا۔اس نے جواب دیا کہ میں نے صبح انٹرنیٹ استعمال کیا تھا،بلکل صیحح تھا، لیکن دیر رات کو میں نےدوبارہ چیک کیا تھا۔ پھر وہی حال یورز نیم اور پاسورڈ غلط۔

آج دوپہر کو کچھ وقت نکال کر یہ چیک کیا شاید دن میں صیحح ہو۔ دن میں بغیر کسی مسئلے کے نیٹ کنکٹ ہوگیا۔ اس کا مطلب یہی ہوا کہ یہ یوزر نیم اور پاسورڈ دن میں صیحح ہیں اور رات میں غلط۔ واہ پی ٹی سی ایل والوں تمھارا تو جواب نہیں۔