Powered by WordPress | Theme by mg12 | Valid XHTML 1.1 and CSS 3
  • ایک چھوٹا سا مسئلہ

    دو مہینے بلاگ سے چھٹی کرنے کے بعد آج دوبارہ حاضر ہوا ہوں۔ اِس چھٹی میں میرا ہاتھ بلکل بھی نہیں ہے۔ کچھ بڑےبڑے اور پوشیدہ ہاتھوں نے مجھے مجبور کیا، کہ میں چھٹی کروں، میں نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی ، اتفاقیہ طور پر اس کمیٹی نے یہ پتا لگایا، کہ اِن خفیہ ہاتھوں میں میرا کمپیوٹر ، انٹرنیٹ، بجلی ، گرمی اور کچھ دیگر عناصر جن کا نام فلحال یہاں بیان نہیں کیا جاسکتا، شامل ہیں، کیونکہ یہ عناصر کچھ زیادہ اور طاقتور اس لئے میں اِن کے قابو میں آگیا۔ اگر ایک دو ہوتے تو مجال ہے کہ میں اِن کے قابو میں آتا۔
    یہ میں کیا دکھی داستان لے کر بیٹھا ہوں۔ جس وجہ سے آیا ہوں وہ تو بھول گیا ہوں۔اب یاد آیا ہے بتادیتا ہوں۔
    چند دن پہلے ایک فری ویب ہوسٹ پر ایک بلاگ بنانے کی کوشش کی ۔ بلاگ آسانی سے بن گیا۔ پھر ایک جملہ بھی لکھ کر تجرباتی طور پر پوسٹ کردیا۔ لیکن جب پری ویو دیکھا تو پورا جملہ ڈبوں میں تبدیل ہوچکا تھا۔ جناب میں جو کچھ لکھتا ہوں وہ سارا کچھ “ڈبہ” ہوتا ہے۔ لیکن میں ڈبے کی شکل تو نہیں بناتا ۔ دو تین تھیم تبدیل کرکے دیکھ چکا ہوں۔ اور میرے پاس نیم حکیمی کے جتنے بھی نسخئے تھے ۔ آزما کر دیکھ چکا ہوں۔ لیکن مسئلہ وہی کا وہی۔ اب میں پکے اور دانا حکیموں کے آگے اپنا یہ مسئلہ رکھ رہا ہوں۔ دیکھتا ہوں کیا ہوتا ہے۔
    بلاگ کا ایڈریس یہ ہے۔
    http://jiw.07x.net/

    Monday, June 29, 2009 at 02:38
  • گھڑیاں پھر ایک گھنٹے آگے

    آج رات پھر گھڑیاں ایک گھنٹے آگے کردی گئیں، پچھلے سال یہ تجربہ بہت کامیاب ہوا تھا۔ گھڑیاں ایک گھنٹے آگے کرکے پچھلے سال اتنی بجلی بچائی گئی ۔ کہ اِس سال ملک کے کسی بھی حصے میں لوڈ شیڈنگ کانام ہی لوگ بھول گئے۔لوگ اس بات سے پریشان تھے کہ کبھی تو بجلی جائے۔ تاکہ ہمیں پرانا زمانہ یاد آئے۔دنیا کے باقی ملک جہاں بجلی کا مسئلہ ابھی تک برقرار ہے۔اُن کو میرا مشورہ ہے۔ ہمارے ملک کے اَس فارمولے پر عمل کروں۔ صرف اپنی گھڑیاں آگے پیچھے کرکے آپ لوگ بھی بڑی مقدار میں بجلی کی بچت کرسکتے ہیں۔اِس کے لئے آپ کو کوئی نیا پاور اسٹیشن بنانے کی ضرورت نہیں۔اگر آپ کے ملک میں یہ فارمولا کام نہ کرے ۔ تو ہمارے ملک کے کچھ وزیران ، مشیران کو لے جائے ۔پھر دیکھئے بجلی کیا اُس کا پورا خاندان آپ کے آگے سر جھکائے گا۔

    Tuesday, April 14, 2009 at 12:27
  • ہڑتال ہڑتال ہڑتال

    تین بلوچ رہنماؤں کےقتل کی وجہ سے جیونی سمیت پورے بلوچستان میں حالات بہت کشیدہ ہیں۔ چاردن کے شٹر ڈاؤن ہڑتال کے بعد آج حالات میں کچھ بہتری ہوئی ہے۔دکانیں وغیرہ کُھل گئے ہیں۔ پہلے دن ہڑتال پُرامن رہا۔جمعہ کے دن جب ہڑتال کا دوسرا دن تھا تو ہڑتال نے کچھ شدّت اختیار کی۔ دوسرے دن جب اُن شہیدوں کا غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے کے بعدکچھ سیاسی لیڈروں نے تقریریں کی۔جب لوگ اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کے بعد پُر امن طور پر اپنے اپنے گھر جارہے تھے تو اچانک پولیس نے لوگوں کے سمت آنسو گیس کے شیل داغے۔پھر ہوائی فائرنگ کی۔چند ایک سیدھےفائر بھی کئے ۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔پہلے تو لوگوں کے سمجھ کچھ نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے۔ کیونکہ 21فروری 1987 کے بعد دوسری دفعہ جیونی کے عوام پر پولیس نے آنسو گیس اور فائرنگ کی تھی۔ پھر لوگوں کےغم و غصے میں اضافہ ہوگیا۔ لوگوں نے کچھ توڑپھوڑ کی۔

    لوگ پریشان تھے کہ پولیس نے آخر فائرنگ کیوں کی۔ پتا چلا کہ پولیس کی گاڑی پر ایک دو پتھر کسی نے پھینکے تھے ۔ سارے لوگ پولیس کو قصور وار ٹھہرا رہے ہیں کہ اگر وہ فائرنگ نہ کرتے تو لوگ کبھی بھی توڑ پھوڑ نہیں کرتے۔

    اگلے دو دن پھر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی وجہ سے بازار بندرہے۔آج ہڑتال ختم ہے۔ بازار سارے کھلے ہوئے ہیں۔

    Monday, April 13, 2009 at 11:25
  • روز کا قصہ ہے

    میں کچھ زیادہ ہی مصروف تھا۔ بلاگ پر لکھنے کے لئے وقت ہی نہیں مل رہاتھا۔ تین چار دن ہوئے فارغ ہوں ۔ لیکن نیٹ کا موڈ خراب ہے۔ میں یہ پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ میں نیٹ رات کو استعمال کرتا ہوں۔ بارہ بجے کےبعد ، لیکن ہفتہ ہونے کو آیا ہے۔ جیسے ہی بارہ بج جاتے ہیں ۔ میرے نیٹ کے بارہ بج جاتے ہیں۔ کچھ دو تین دنوں تک تو میں یہی سمجھتا رہا کہ بادل چھائے ہوئے ہیں۔ اور کچھ علاقوں میں بارش بھی ہوئی ہے۔ اس لئے نیٹ بند ہے۔ لیکن اب تو بادل بھی برس کر چلے گئے۔ لیکن نیٹ نے ابھی تک اپنا وہی موڈ برقرار رکھا ہوا ہے۔ نیٹ کے اس حال کی وجہ سے جب کبھی میں لکھنے بیٹھ جاتا ہوں تو نیٹ بند دیکھ کر لکھنے کو سارے موڈ خراب ہوجاتا ہے۔میں نے جیونی میں پی ٹی سی ایل والوں سے بات کی ۔ اُن کا جواب تھا۔ کہ یہاں سے سب کچھ ٹھیک ہے۔ مسئلہ اوپر سے ہورہا ہے۔ چلو یہ کوئی نئی بات نہیں۔یہ تو روز کا قصہ ہے۔

    Monday, April 13, 2009 at 11:20
  • میرے 100 پوسٹ پورے ہوگئے

    پچھلے تین چار دن سے موسم بہت خوشگوار ہے۔ بادل چھائے ہوئے ہیں۔کبھی کبھار ہلکی ہلکی بوندا باندی کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے۔ کبھی تیز ہوائیں سے آسمان صاف ہوجاتا ہے۔ جیسے ہی ہواؤں کو سلسلہ رک جاتا ہے۔ بادل دوبارہ آجاتے ہیں۔ آج کل میں کچھ مصروف ہوں، اس لئے اپنے بلاگ سے دور ہوں۔

    آخر کار میں نے بھی اپنے پوسٹوں کی سنچری مکمل کرلئے ، میرے بلاگ کا شکریہ جس نے میرے بور تحریروں کے باوجود بھی میرا ساتھ دیا۔ابھی میرا اپنے بلاگ کو بور کرنے کا ارادہ ختم نہیں ہوا ۔ اس لئے اپنے پیارے بلاگ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ سب رہنماؤں کابھی بہت بہت شکریہ جنھوں نے ہمیشہ میری رہنمائی کی ۔

    Sunday, March 29, 2009 at 12:59
  • اک اُمید

    کل رات ساڑھے تین پونے چار بج رہے تھے میں ٹی وی کے سامنے بیٹھا اِس انتظار میں تھا کہ کب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی صاحب آئیں اور آکر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب کی بحالی کو اعلان کردیں۔میں نے اپنے آپ سے یہ سوال پوچھا کہ میں کیونکہ رات کے اِس وقت جاگ رہا ہوں۔ میں کس بات سے خوش ہوں۔ مجھے کس وجہ سے نیند نہیں آرہی ۔ تو مجھے جو اب ملا ۔اک اُمید کچھ اچھے کے اُمید ۔ چیف جسٹس صاحب بحال ہوگئے ۔ میری طرح کہیں لوگوں کو چیف جسٹس صاحب سے اچھے کی اُمید ہے۔

    Monday, March 16, 2009 at 12:19
  • اک عام آدمی کا خط- چیف جسٹس کے نام

    جناب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری صاحب


    آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپ کو 9 مارچ کے بعد سے ٹی وی، ریڈیو اور اخباروں کے ذریعے سےجانتا ہوں، آپ اپنے جس موقف پر ابھی تک قائم ہیں۔ وہ قابل ِ تحسین ہے، ملک کے سیاسی ڈرامے باز قوم کے ساتھ مذاق کررہے ہیں۔یہ آپ کی بحالی نہیں چاہتے، یہ لوگ سب کے سب چور ہیں اس لئے آپ سے ڈرتے ہیں۔اور یہ آپ سے اس لئے بھی ڈرتے ہیں کہ آپ نے اُس وقت اُس طاقت ور “شخص” کو “نو ” کہا تھا جب اُس کے پاس سارے ہتھیار تھے۔ اِن سیاسی ڈرامہ بازوں کو تو آپ کا شکر گزار ہونا چاہیئے ،آپ کے اک انکار سے اِن لوگوں کے سمجھ میں آگیا کہ اُس مضبوط شخص کو بھی انکار کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ یہ لوگ بڑے آقاؤں کی مدد سے چور راستوں کی کھوج میں لگے ہوئے تھے، اور آخر میں یہ آئے بھی چور دروازوں کی مدد سے ، کیونکہ چور کو صرف چور راستہ ہی نظر آتا ہے۔آپ اپنی بات پر قائم رہیئے، شاید آپ کے کچھ دوست اور ساتھیوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں،لیکن آپ اپنی بات پر قائم رہیئے ،کیونکہ 9 مارچ کو جب آپ نے انکار کیا تھا تب آپ اکیلے تھے۔ آپ کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ لوگ آپ کا ساتھ دیں گے بھی یا نہیں۔ اب تو کچھ مفاد پرستوں کو چھوڑ کرباقی پورا ملک آپ کے ساتھ ہے۔ ہوسکتا ہے یہ سیاسی ڈرامہ باز آپ کو کبھی بھی بحال نہ کریں ۔کوئی بات نہیں۔آپ نے لوگوں کے دلوں میں اور تاریخ میں وہ جگہ بنا لیا ہے ، جو یہ سیاسی لوگ گنوا چکے ہیں۔

    فقط


    اک عام آدمی۔ جس کا کوئی پرسانِ حال نہیں

    Tuesday, March 10, 2009 at 12:19
  • قانونی طریقے سے

    شریف برادران کو عدالت نے نااہل قرار دیا۔ قانونی طریقے سے

    فیصلے کے خلاف پنجاب کے عوام نے احتجاج کیا، قانونی طریقے سے

    صدر نے صوبے پنجاب میں دو ماہ کے لئے گورنر راج نافذ کردیا۔ قانونی طریقے سے

    گورنر راج کے خلاف لوگوں کےاحتجاج میں شدّت آگیا۔لوگوں نے توڑپھوڑ کی ۔ کچھ بینکوں کو آگ لگایا ۔ قانونی طریقے سے

    بڑے بڑے سیاسی لیڈوں نے نااہلی کے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا۔ لیکن فیصلے کے خلاف کچھ بھی نہیں کہہ سکے کیونکہ فیصلہ ہوا تھا ۔ قانونی طریقے سے

    پنجاب اسمبلی کو تالا لگادیا گیا۔ قانونی طریقے سے

    اسمبلی کے ممبران نے اسمبلی کے باہر سیڑھیوں پر اپنی کاروائی جاری رکھی۔قانونی طریقے سے

    صوبے سندھ میں نئے جج صاحباں کو تعینات کیا جارہا ہے۔ قانونی طریقے سے

    ملک میں جب ہر کام قانونی طریقے سے ہورہا ہے تو لوگ کیوں چاہتا ہیں۔ صدر صاحب معزول چیف جسٹس صاحب کو غیر قانونی طریقے سے بحال کرے۔جیسے ہی کوئی قانونی طریقے نکل آئے گا۔ صدرصاحب خوشی خوشی چیف جسٹس صاحب کو بحال کردیں گے۔

    Sunday, March 1, 2009 at 12:19
  • جیوانی غروبِ آفتاب

    آج گوگل امیج پر جیونی لکھ کر سرچ کیا۔تو غروب ِ آفتاب کی ایک خوبصورت تصویر دیکھی۔تصویر کے لنک پر کلک کیا۔اُس کلک نے مجھے اِس بلاگ پر پہنچادیا، تصویر کےساتھ جو درج تھا ۔اُسے پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ بلاگر صاحبہ نے سال کا پہلا دن جیونی میں گزارا ۔کیونکہ پوسٹ میں دو جنوری کی تاریخ لکھا ہوا تھا ۔

    اب اُس بلاگ نے اپنا پتا بدل دیا ہے۔جب بلاگ کا پتا بدل ہے تو ظاہر ہے تصویر وں نے بھی اپنا پتا تبدیل کیا ہوا ہوگا۔اب اس تصویر وں کو دیکھنے کے لئے یہاں کلک کیجئیے۔

    http://hiragoeson.wordpress.com/2009/01/02/jiwani

    اور بلاگ کا نیا پتا دیکھنے کے لئے یہاں کلک کیجئیے ۔

    http://hiragoeson.wordpress.com

    جیوانی

    Monday, February 23, 2009 at 11:59
  • گوادر پر ڈرامہ اور لہجہ لیاری کا

    کل پی ٹی وی ہوم پر اک ڈرامہ سیریل ٹیلی کاسٹ ہورہا تھا۔ دروازہ نام کے اس ڈرامہ کو عطاءاللہ بلوچ صاحب نے ہدایات دی تھی اور اسے تحریر ظفر معراج صاحب نے کیا تھا۔ اس ڈرامہ سیریل کی کہانی کیاتھی۔یہ مجھے پتا نہیں چلا ۔کیونکہ میں کل اس ڈرامے کے صرف آخری کچھ مناظر دیکھ پایا۔چند دن پہلے پی ٹی وی ہوم پر دکھائی جانے والی ایک تقریب میں عطاء اللہ بلوچ صاحب اور ظفر معراج صاحب کہہ رہےتھے کہ یہ ڈرامہ سیریل گوادر کے بیک گراؤنڈ پرہے۔ اس ڈرامہ سیریل میں ایوب کھوسو کے علاوہ باقی تمام چہرے میرے لئے نئے تھے کیونکہ میں ڈرامے ورامے نہیں دیکھتا۔ اس ڈرامہ میں شامل تمام فنکار بشمول ایوب کھوسوکے لیاری والوں کےلہجے میں اردو بولنےکی کوشش کررہے تھے۔اس کوشش میں کافی حد تک وہ کامیاب بھی تھے۔لیکن میرا اک سوال ہے عطاء اللہ بلوچ صاحب اور ظفر معراج صاحب سے کہ کیا تمام بلوچ اس لہجے میں بات کرتے ہیں جس لہجے میں لیاری کے لوگ بات کرتے ہیں۔بلکل نہیں ۔اگر ڈرامہ سیریل گوادر کے بیک گراؤنڈ پر ہے تو لہجہ بھی گوادر ی ہونا چاہئیےنا۔ نہیں تو سیدھے سادھے انداز میں اردو بولئیے۔

    بلوچستان کےتقریباً تمام علاقوں کے لوگ الگ الگ لہجے میں بات کرتے ہیں۔جیونی کے لوگوں کا لہجہ ، گوادروالوں سے مختلف ہے۔ گوادر والوں کا لہجہ پسنی والوں سے مختلف ہے۔ اور پسنی والوں کا لہجہ تربت والوں سے الگ ہے۔کراچی میں رہنے والے بلوچوں کا خاص طور پر لیاری والوں کا لہجہ تو بلوچستان میں رہنے والے لوگوں کے لہجے سے بلکل ہی مختلف ہے۔ لیکن عطاء اللہ بلوچ صاحب اور ظفر معراج صاحب کو شاید اس بات کو پتا نہیں تھا۔انہیں اک ڈرامہ بنا نا تھا۔ سو اُن صاحبان نے بنا لیا۔اس ڈرامےکے بارے میں اک اور بات اگر کسی کو یہ دیکھنا ہے کہ بلوچ خواتین کس طرح کے کپڑے پہنتے ہیں۔تو وہ یہ ڈرامہ دیکھ لے۔یہی اک بات جو اس ڈرامے میں تعریف کے قابل ہےشاید آنے والوں قسطوں میں اس ڈرامہ میں مزید تعریف کےقابل کچھ چیزہو۔آنے والے بدھ کو اگر فرصت ملی تو اس دروازہ کو دیکھنے کی کوشش کروں گایہ ڈرامہ سیریل ہر بدھ کو 7:45 پرنشر ہوتا ہے۔

    Thursday, February 5, 2009 at 02:50

TOP